نئی دہلی 14/اپریل (ایس او نیوز): آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے سکریٹری جناب مجتبیٰ فاروق صاحب نے ملت اسلامیہ کی دو عظیم المرتبت شخصیت حضرت مولانا سالم قاسمی اورحضرت مولانا عبدالوہاب خلجی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان دونوں عظیم علماء اور امت کے رہنما ؤں کے انتقال سے نہ صرف علمی میدان میں ایک عظیم خلا پیدا ہواہے بلکہ ملت اسلامیہ ہند نے اپنے ایسے رہنماؤں کو کھودیاہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم اور امت کی فلاح و بہبود میں وقف کررکھی تھی۔مجتبیٰ فاروق صاحب نے کہاکہ مولانا کی ولادت 8جنوری 1926میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی اور وہیں تدریس سے وابستہ ہوگئے تھے۔ 1987میں تقسیم کے بعد دارالعلوم وقف دیو بند میں چلے گئے تھے اورمولانا قاری محمدطیب کے انتقال کے بعد یہاں کی تمام ذمہ داریاں انجام دینے لگے۔
حضرت مولانا محمد سالم قاسمی دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانامحمد قاسم ناناتوی کے پرپوتے اور سابق مہتم حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب کی بیٹے تھے۔مسلم پرسنل لا بورڈ کے ماضی میں رکن مجلس عاملہ رہ چکے ہیں اور ابھی نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ آل انڈیامسلم مجلس مشاورت، رکن مجلس انتظامیہ وشوریٰ ندوۃ العلما، رکن مجلس شوریٰ مظاہرالعلوم وقف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ کے رکن، سرپرست کل ہند رابطۂ مساجد، سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ان کا یہ اہم کارنامہ یہ ہے کہ جب مشاورت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی تو ان کی کوششوں سے دونوں حصوں کا انضمام ہوا اور وہ اخیر تک مشاورت کے سرپرست بھی رہے۔
مشاورت کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ مولانا عبدالوہاب خلجی کی ولادت جنوری 1954کو پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے بعددہلی کے مدرسہ سبیل السلام، جامعہ رحمانیہ بنارس میں تعلیم حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مختلف اہم کتابوں کی طباعت کا بھی مولانا نے پوری دلجمعی سے کام کیا۔ مولانانے 17برسوں تک مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ 1990سے لے کر 2001تک مرکزی جمعیت اہلحدیث ہندکے ناظم عمومی کے عہدے پر فائز رہے۔ اس سے قبل 1984سے 1990تک قائم مقام ناظم کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔اس کے علاوہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے متحرک رکن بھی تھے۔ سری لنکا اور لندن وغیرہ کی بعض تنظیموں سے بھی وابستہ تھے۔ جامعہ سلفیہ بنارس، آل انڈیا ملی کونسل اور مسلم مجلس مشاورت وغیرہ کے فعال رکن تھے۔ پوری دنیا کی اہم کانفرنسوں میں شرکت بھی کرتے تھے۔مولاناخلجی کے پسماندگان میں دوبیٹے اور چاربیٹیاں ہیں۔
انہوں نے ان دونوں عظیم ہستیوں کی ملت کے تئیں خدمات کو سراہتے ہوئے دعاکی کہ اللہ دونوں حضرات کی مغفرت فرمائے اور حسنات کو قبول فرمائے۔اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے